<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مشن آن لائن &#187; احوالِ جہاں</title>
	<atom:link href="http://www.mission.pk/category/world/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mission.pk</link>
	<description>Mission Online - Urdu News and analysis from Pakistan, Middle East, and South Asia</description>
	<lastBuildDate>Thu, 19 Jan 2012 02:29:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>ملا عمر کبھی بھی پاکستان میں نہیں رہا: مشرف</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/375.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/375.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 10 Nov 2011 06:44:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[افغان جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[ملا عمر]]></category>
		<category><![CDATA[پرویز مشرف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=375</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملا عمر نہ ہی پاکستان میں ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔ وہ بی بی سی کے پروگرام ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں میزبان سٹیفن سیکر کے ساتھ شریکِ گفتگو تھے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین بنیادی تعلقات [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/56589230_-3.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-376" title="_56589230_-3" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/56589230_-3-300x168.jpg" alt="" width="300" height="168" /></a>پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملا عمر نہ ہی پاکستان میں ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔ وہ بی بی سی کے پروگرام ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں میزبان سٹیفن سیکر کے ساتھ شریکِ گفتگو تھے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین بنیادی تعلقات بہتر نہیں رہے اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>پرویز مشرف نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی بدقسمتی تھی لیکن ملا عمر کے پاکستان میں رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملا عمر افغان قوم کے فرد اور طالبان کے رہنما ہیں اور وہ کیونکر افغانستان میں رہ کر طالبان کی رہنمائی کرنے کی بجائے پاکستان میں رہیں گے۔</p>
<p>پرویز مشرف نے ملا عمر کی پاکستان میں موجودگی اور کوئٹہ شوریٰ کے حوالے سے بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹوں کو غلط اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔</p>
<p><object width="425" height="344"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/hVT54hoADTc?fs=1&amp;hl=en_US"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/hVT54hoADTc?fs=1&amp;hl=en_US" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="425" height="344"></embed></object></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/375.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>گیلانی کو امن پسند انسان سمجھتا ہوں: منموہن سنگھ</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/371.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/371.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 10 Nov 2011 06:20:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[سارک]]></category>
		<category><![CDATA[پاک بھارت تعلقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=371</guid>
		<description><![CDATA[مالدیپ میں سارک ممالک کے اجلاس سے قبل تقریباً 90 منٹ تک ملاقات کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بھارتی ہم منصب نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پہلے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اُن کی منموہن سنگھ سے ملاقات [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/PM-Gilani-Maldives-gilani_st.jpg"><img class="alignleft size-full wp-image-372" title="PM-Gilani-Maldives-gilani_st" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/PM-Gilani-Maldives-gilani_st.jpg" alt="" width="295" height="200" /></a>مالدیپ میں سارک ممالک کے اجلاس سے قبل تقریباً 90 منٹ تک ملاقات کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بھارتی ہم منصب نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔</p>
<p>صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پہلے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اُن کی منموہن سنگھ سے ملاقات بہت اچھی رہی ہے اور دونوں ممالک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پاکستان کی غیر مستقل نشست کیلئے بھارتی حمایت پر منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>بعد ازاں منموہن سنگھ نے اپنی بات چیت میں کہا کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو امن پسند انسان سمجھتے ہیں اور گذشتہ تین سالوں کے دوران یہ یقین پختہ تر ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مذاکرات کے دوران اپنی اپنی سطح پر باہمی مسائل پر خلوص کے ساتھ بات چیت کرینگے۔</p>
<p>مالدیپ میں پاکستانی اور ہندوستانی وفد کے اراکین آپس میں گھلے ملے نظر آئے اور ناشتے کی میزوں پر ایک ساتھ بیٹھ کر اچھے موڈ میں گپ شپ کرتے رہے۔</p>
<p>منموہن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مخالفت میں بہت سا وقت ضائع کر دیا ہے اور اب ایک نیا باب کھولنے کا وقت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/371.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>گجرات کے مسلم کش فسادات، 31 افراد کو عمر قید</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/365.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/365.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 09 Nov 2011 16:42:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات فسادات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=365</guid>
		<description><![CDATA[تقریباً نو سال قبل بھارتی ریاست گجرات میں ہونیوالے مسلم کش فسادات میں درجنوں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے الزام میں بھارتی عدالت نے 31 ہندوؤں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ 2002ء میں ریاست گجرات میں کئی ہفتوں تک ہندو انتہاپسند ایک ٹرین میں 60 ہندوؤں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/Gujrat-riots-543.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-366" title="Gujrat-riots-543" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/Gujrat-riots-543-300x151.jpg" alt="" width="300" height="151" /></a>تقریباً نو سال قبل بھارتی ریاست گجرات میں ہونیوالے مسلم کش فسادات میں درجنوں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے الزام میں بھارتی عدالت نے 31 ہندوؤں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔</p>
<p>2002ء میں ریاست گجرات میں کئی ہفتوں تک ہندو انتہاپسند ایک ٹرین میں 60 ہندوؤں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے مسلمانوں کے گھروں، محلوں اور قصبوں پر حملے کرتے رہے۔ ہندو انتہا پسندوں کا الزام تھا کہ ٹرین پر حملہ مسلمانوں نے کیا تھا۔</p>
<p>بدھ کے روز دیا جانیوالا فیصلہ گجرات کے مرکزی شہر احمد آباد سے کوئی 40 کلومیٹر دور واقع ضلع مہسانہ کے گاؤں سردار پور کے ایک گھر کو آگ لگانے کے واقعہ سے متعلق تھا۔ اس واقعہ میں 20 خواتین سمیت 33 مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا جنہوں نے اس گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔</p>
<p>جج ایس ٹی سریواستوا نے مزید 42 افراد میں سے 11  کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر بری کر دیا جبکہ 31 افراد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے 25000 روپے فی فرد کے مچلکے جمع کروانے اور بغیر اجازت ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/365.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایران نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی: رپورٹ</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/350.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/350.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 08 Nov 2011 02:43:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=350</guid>
		<description><![CDATA[اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے سے افشاء ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے چند ماہ کے اندر اندر ایٹم بم بنانے کیلئے مطلوبہ معلومات اور ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ اتوار کے روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے سے افشاء ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے چند ماہ کے اندر اندر ایٹم بم بنانے کیلئے مطلوبہ معلومات اور ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>اتوار کے روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو معلوم ہوا ہے کہ ایران نے غیر ملکی ماہرین کی مدد سے ایٹم بم بنانے کیلئے ضروری تکنیکی معاونت حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی متوقع طور پر آئندہ چند روز میں ایران کے خفیہ تحقیقی پروگرام پر تفصیلات پیش کریگی۔</p>
<p>ایران کے وزیرِ خارجہ اکبر صالحی نے مذکورہ بالا رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران پر حقائق کے منافی الزامات عائد کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو کسی دباؤ کے تحت کام نہیں کرنا چاہئے۔ ایران کا نیوکلیائی مسئلہ تکنیکی اور قانونی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔</p>
<p>مغربی قوتوں کو یقین ہے کہ ایران اپنے سویلین نیوکلیئر توانائی پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کا مؤقف ہے کہ وہ محض بجلی پیدا کرنے کیلئے یورینئم افزودہ کر رہا ہے۔ امریکہ یورپین یونین، اور ان کے اتحادیوں نے ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی پروگرام کو روکنے سے انکار کرنے پر ایران پر معاشی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ ابھی رپورٹ سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن اسرائیل میں اس بات پر بحث چل نکلی ہے کہ آیا اس کی حکومت کو ایران کی نیوکلیئر سہولت جو کہ تہران سے محض 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پر حملہ کرنا چاہئے یا نہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم شیمون پیریس نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایران پر حملے کے امکانات قریب تر ہیں۔</p>
<p>تاہم اسرائیلی محکمہ دفاع کے کوئی درجن بھر سابق سربراہان اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کے موجودہ سربراہ افرائیم حلیوی نے اس ممکنہ اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف چین اور روس نے ایران پر کسی بھی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی پابندیوں کے باعث ایران کا نیوکلیائی پروگرام پہلے ہی سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/350.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان اور چین میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/344.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/344.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 07 Nov 2011 14:59:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاک چین دوستی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=344</guid>
		<description><![CDATA[روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں چین اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے اجلاس سے قبل باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہء خیال کیا ہے۔ چین کی خبر رساں ایجنسی ژن ہوا کے مطابق ملاقات میں چین کے وزیرِاعظم وین جیاباؤ نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/131233218_21n.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-345" title="131233218_21n" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/131233218_21n-300x227.jpg" alt="" width="300" height="227" /></a>روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں چین اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے اجلاس سے قبل باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہء خیال کیا ہے۔</p>
<p>چین کی خبر رساں ایجنسی ژن ہوا کے مطابق ملاقات میں چین کے وزیرِاعظم وین جیاباؤ نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان اور چین نے اعلیٰ سطحی تبادلوں، سٹریٹجک اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو خاصا فروغ دیا ہے اور اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور میں اہم کردار ادا کئے ہیں۔</p>
<p>اس سال دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔</p>
<p>وین نے کہا کہ چین دوستی کی اس سالگرہ اور ’’پاک چین دوستی کے سال‘‘ کو دونوں ملکوں کے لوگوں کیلئے مزید مفادات اور تعلقات کو مزید بلندی پر لے جانے کیلئے پُر عزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ پاکستان کی قومی خودمختاری اور وقار کی حفاظت کیلئے مستعد رہا ہے اور پاکستان کو درپیش سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔</p>
<p>اس موقع پر وین نے کہا کہ چین ہر طرح سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں تعاون کریگا اور زلزلے کے تعمیرِ نو کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔</p>
<p>وین نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اپنی موجودہ مشکلات سے نمٹ کر ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔</p>
<p>اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ چین ہمیشہ ہی پاکستان کیلئے ایک مخلص اور قابلِ قدر دوست کے طور پر ہمقدم رہا ہے۔</p>
<p>دلی طور پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ پاکستان تمام تر خلوص کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور معیشت و تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر کی تعمیر، مالیات اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقائی امن، استحکام اور ترقی، اور سٹریٹجک پارٹنر شپ کو آگے بڑھانے کیلئے پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بنیادی مفادات کے حوالے سے باہمی تعاون کیلئے چین سے روابط کو فروغ دے گا۔</p>
<p>دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی یہ ملاقات چالیس منٹ کیلئے طے تھی تاہم ملاقات کے بعد یہ دورانیہ ایک گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/344.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عید پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کیخلاف مظاہرے</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/325.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/325.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 07 Nov 2011 09:21:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[مقبوضہ کشمیر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=325</guid>
		<description><![CDATA[مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں نمازِ عید کے بعد بھارتی تسلط کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے بعد حریت پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں نوجوانوں نے جموں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/occupied-kashmir-protest.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-326" title="occupied-kashmir-protest" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/occupied-kashmir-protest-300x187.jpg" alt="" width="300" height="187" /></a>مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں نمازِ عید کے بعد بھارتی تسلط کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے بعد حریت پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>عیدالاضحیٰ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں نوجوانوں نے جموں و کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضے کے خلاف جلوس نکالنے کی کوششیں کیں تاہم بھارتی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ اس دوران کئی پولیس کے کئی افسران اور مظاہرین زخمی بھی ہوئے جبکہ کئی نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ عید سے ایک روز قبل ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے خاتون رہنما آسیہ اندرابی سمیت کئی حریت پسند رہنماؤں کو خیر سگالی کے طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم رہائی کے بعد بھی ان رہنماؤں کو گھروں میں ہی نظر بند رکھا گیا اور نمازِ عید بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>کٹھ پتلی وزیرِاعلیٰ مقبوضہ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کڑے حفاظتی حصار میں سرینگر کے علاقے حضرت بل میں نمازِ عید ادا کی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/325.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تھائی لینڈ میں شدید سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی</title>
		<link>http://www.mission.pk/2011/11/world/306.html</link>
		<comments>http://www.mission.pk/2011/11/world/306.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 07 Nov 2011 05:48:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نیوز ڈیسک</dc:creator>
				<category><![CDATA[احوالِ جہاں]]></category>
		<category><![CDATA[تھائی لینڈ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mission.pk/?p=306</guid>
		<description><![CDATA[تھائی لینڈ میں گذشتہ نصف صدی کے دوران آنے والے شدید ترین سیلاب کے نتیجے میں اب تک ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ سیاہ اور آلودہ سیلابی پانی سے بنکاک کے سب وے سسٹم کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے مزید علاقوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%84%DB%8C%D9%86%DA%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-307" title="تھائی لینڈ میں سیلاب" src="http://www.mission.pk/wp-content/uploads/2011/11/%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%84%DB%8C%D9%86%DA%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-300x168.jpg" alt="" width="300" height="168" /></a>تھائی لینڈ میں گذشتہ نصف صدی کے دوران آنے والے شدید ترین سیلاب کے نتیجے میں اب تک ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ سیاہ اور آلودہ سیلابی پانی سے بنکاک کے سب وے سسٹم کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے مزید علاقوں سے انخلاء کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ تھائی حکام کے مطابق کم از کم چھ سب وے سٹیشنز سیلاب کے راستے میں آ رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ بنکاک کا مرکزی کاروباری علاقہ ابھی تک سیلاب کی زد میں نہیں آیا لیکن دیگر علاقوں میں تقریباً 12 ملین لوگ سیلابی پانی میں گھر چکے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں ہائی ٹیک انڈسٹریل پارک بھی شامل ہے جہاں معروف کمپنیوں ’’کینن‘‘ (Canon) اور سونی کی فیکٹریاں بھی واقع ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں تھائی لینڈ کے 64 صوبوں میں سے 25 متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>تھائی وزیرِاعظم جنگ لک شنواترا نے ریڈیو پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ سیلاب سے نمٹنے میں تکنیکی مسائل نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے عدم تعاون کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سیلابی علاقوں میں لوگوں نے انتظامیہ کو پانی کے نالوں کے حفاظتی بند کھولنے کی دھمکی دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mission.pk/2011/11/world/306.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

