08:33 pm - Wednesday 22 February 2012
Islamabad, PK - 8 °CHaze - Humidity: 57%

شاہ محمود قریشی 27 نومبر کو تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کرینگے

By نیوز ڈیسک - جمعہ نومبر 11, 10:15 قبل از دوپہر

سابق وزیرِ خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ رہنما شاہ محمود قریشی نے بالآخر تحریکِ انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُن کے بارے میں کافی عرصہ سے چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہونگے یا تحریکِ انصاف میں۔ شاہ محمود قریشی نے امریکی خفیہ ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اپنی پارٹی اور حکومت سے اختلاف کے باعث وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

باوثوق ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی، پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کرنے سے قبل قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔ توقع ہے کہ وہ تحریکِ انصاف میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان 27 نومبر کو کشمور میں منعقد ہونے والے ایک جلسے میں کرینگے۔

تحریکِ انصاف کے ترجمان کے مطابق شاہ محمود قریشی اور عمران خان عید الاضحیٰ سے پہلے ملے ہیں اور قریشی عنقریب تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دینگے۔

دریں اثناء انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک اور پاکستان سکواش ٹیم کے سابق کوچ فہیم گل بھی عمران خان سے ملاقات کے بعد تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کرینگے۔

قبل ازیں مصورِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ولید اقبال بھی عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں تحریکِ انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اندرونی اختلافات:

ایک طرف تو حالیہ دنوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن دوسری طرف پارٹی کے اندر ہی اختلافات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے سرکردہ رہنما، ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، اور نائب صدر شاہد قاضی کا استعفیٰ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

شاہد قاضی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اسٹیبلشمنٹ کی لائن پر چلنے لگی ہے اور اُن تمام لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے جو واضح طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیلئے کام کرتے ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تحریکِ انصاف کے نائب صدر شاہد قاضی نے 7 نومبر کو اپنی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے انفارمیشن سیکرٹری عمر چیمہ نے استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ پارٹی کی قیادت اس مسئلے پر فیصلہ کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے شاہد قاضی کی طرف سے عائد کردہ الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور شاہد قاضی کی ذاتی رائے قرار دیا۔

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان میں تحریکِ انصاف کی سرگرمیوں کا بھی از سرِ نو جائزہ لے گی اور اس سلسلے میں بہتری کیلئے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

شاہد چیمہ نے اپنے استعفیٰ میں تحریر کیا ہے کہ پارٹی کا بلوچستان کے حوالے سے رویہ مناسب نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو کے دورہ، سابق صدر پرویز مشرف کو تحریکِ انصاف میں قبول کرنے کی پالیسی، پارٹی الیکشن نہ ہونے اور میرٹ سے ہٹ کر عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے شکایات کیں۔

استعفیٰ میں انہوں نے تحریر کیا کہ پاکستان مسلم لیگ قائد بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے قتل سمیت کئی مظالم کی ذمہ دار ہے تاہم اس پارٹی کے رہنماؤں کی تحریکِ انصاف میں شمولیت سے انہیں دکھ پہنچا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے 13 نومبر کو پارٹی کا اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں حکومت اور نواز شریف کے خلاف مہم کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے ہم خیال گروپس اور پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

Leave a Reply